صفحات

Monday, 11 October 2021

یوں سنگ انتظار سے کب تک بندھے رہیں

 یوں سنگِ انتظار سے کب تک بندھے رہیں

دیوارِ نارسائی ہی کیوں دیکھتے رہیں

گزرے نہ کوئی زُود فراموش عمر بھر

اور بے سبب گلی کے دریچے کُھلے رہیں

تم سے گِلہ گزار ہے اپنی یہ بے گھری

کب تک تمہارے خواب سے باہر پڑے رہیں

حالت وہی ہے آج بھی ہم سنگ و خِشت کی

رکھ دے جہاں پہ کوئی، وہیں پر دَھرے رہیں

یونہی کھڑے رہیں کسی منزل کی آس میں

گردِ ملالِ ہجر سے رستے اَٹے رہیں

پوچھے مِرے مسیحا نفس سے کوئی نعیم

طاقِ بدن میں زخم کہاں تک جلے رہیں


نعیم گیلانی

No comments:

Post a Comment