صفحات

Thursday, 7 October 2021

ہو گیا ہے دل نشانہ جب سے اس کے تیر کا

 ہو گیا ہے دل نشانہ جب سے اس کے تیر کا

عشق فرمانا یہاں، لانا ہے جوئے شیر کا

کر گیا پرواز وہ بھی اک پرندے کی طرح

حسن کے فتراک میں دم عشق کے نخچیر کا

روز ہوتی ہے چمن میں چاک پھولوں کی قبا

’کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا‘

فرشِ کاغذ پر خوشی سے رقص کرتا ہے قلم

معجزہ یہ بھی ہے اس کی شوخیٔ تحریر کا

سرخرو جو بھی متین آیا ہے اس کی بزم سے

شکر کرتا ہے ادا وہ کاتبِ تقدیر کا


متین امروہوی

No comments:

Post a Comment