صفحات

Thursday, 21 October 2021

سانس کی یوں کھنچائی ہوتی ہے

 سانس کی یوں کھنچائی ہوتی ہے

جیسے جوتی سلائی ہوتی ہے

اشک سگریٹ کے ساتھ پیتا ہوں 

جیسے کڑوی دوائی ہوتی ہے

پٹڑی پٹڑی سے مل نہیں پاتی

کتنی لمبی جدائی ہوتی ہے

کپڑے آنکھوں کو پھاڑ دیتے ہیں

ایسی عمدہ سلائی ہوتی ہے

پہلے مرتا ہے کان میں مزدور

قبر کی پھر کھدائی ہوتی ہے

سن ترابی کہ شیشۂ دل کی 

پنج گانہ صفائی ہوتی ہے


علی اعجاز سحر

سحر ستانوی

No comments:

Post a Comment