صفحات

Monday, 11 October 2021

اک پیکر خیال کا دھوکہ نگل گیا

 اک پیکرِ خیال کا دھوکا نگل گیا

ہم کو ہمارے شوق کا غلبہ نگل گیا

وہ آگ کوزہ گر نے بھری تھی خمیر میں

مجھ کو مِرا جنون ہی زندہ نگل گیا

مبہوت ہو کے رہ گٸی تاریخ رزم گاہ

باطل کو اک حسینؑ کا سجدہ نگل گیا

وہ آفتاب تھا میں کہ تابانیاں نہ پوچھ

یہ تو کسی کے ہجر کا صحرا نگل گیا

کہتے ہیں ایک شخص کو منزل نہ مل سکی

اس کو سفر میں ہی کوٸی رستہ نگل گیا

باسم یہ دشتِ عشق ہے تجھ کو خبر نہیں

یہ دشت کیسا کیسا سراپا نگل گیا


آفتاب باسم

No comments:

Post a Comment