شکر ہے وہ نظر تو آنے لگی
یہ اداسی کہیں ٹھکانے لگی
تُو مجھے روک بھی نہیں رہا ہے
اور یہ بس بھی دور جانے لگی
چُھپ کے ملنا بھی رائیگاں ہی گیا
اس کی خوشبو بدن سے آنے لگی
کتنی مشکل سے میں رِہا ہوا تھا
اور وہ آنکھ پھر بلانے لگی
پہلے تو دور رکھا دل سے مجھے
پھر وہ خود راستہ دکھانے لگی
کفیل رانا
No comments:
Post a Comment