صفحات

Monday, 11 October 2021

صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں

 صدائیں کون سنتا ہے


صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں

کوئی آواز دیتا ہے

پسِ دیوار

اک بڑھیا

پرانے عاشقوں کے نام لیتی ہے

مگر احساس سے عاری

زمانے میں

پرانی اپسراؤں کی صدائیں کون سنتا ہے

صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں


علی ساحل

No comments:

Post a Comment