صفحات

Wednesday, 6 October 2021

بھرے جو زخم تو داغوں سے کیوں الجھیں

 بھرے جو زخم تو داغوں سے کیوں الجھیں

گئی جو بیت ان باتوں سے کیوں الجھیں

اٹھا کر طاق پہ رکھ دیں سبھی یادیں

نہیں جو تُو تِری یادوں سے کیوں الجھیں

خدا موجود ہے جو ہر جگہ تو پھر

عقیدت کیش بتخانوں سے کیوں الجھیں

یہ مانا، تھی بڑی کالی شبِ فرقت

سحر جب ہو گئی راتوں سے کیوں الجھیں

ہوائیں جو گلوں سے کھیلتی تھیں کل

مِرے محبوب کی زلفوں سے کیوں الجھیں

اسی کارن نہیں رویا تِرے آگے

مِرے آنسو تِری پلکوں سے کیوں الجھیں

ندی یہ سوچ کر چپ چاپ بہتی ہے

صدائیں اس کی ویرانوں سے کیوں الجھیں

انہیں کیا واسطہ آلوک جی! غم سے

گُلوں کے آشنا خاروں سے کیوں الجھیں


آلوک یادو

No comments:

Post a Comment