صفحات

Wednesday, 13 October 2021

صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں

 صبح آتی ہے تو اخبار سے لگ جاتے ہیں

شام جو ڈھلتی ہے بازار سے لگ جاتے ہیں

عشق میں اور بھلا اس کے سوا کیا ہو گا

در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں

جب گھڑی آتی ہے انصاف کی دھیرے دھیرے

جرم آ کر سبھی حقدار سے لگ جاتے ہیں

ہجر میں تیرے تو اک چپ سی لگی رہتی ہے

وصل میں باتوں کے انبار سے لگ جاتے ہیں

وقت آتا ہے جو سُولی سے اترنے کا مِری

سچ سمٹ کر مِری گُفتار سے لگ جاتے ہیں

اب کے موسم بھی عجب ہے تِری باتوں جیسا

سن کے باتیں تِری اشجار سے لگ جاتے ہیں

کھول دیتی ہے ہوس پہلے تو چھوٹی سی دُکاں

دیکھتے دیکھتے بازار سے لگ جاتے ہیں

خواب ہے، جھوٹ ہے، مایا ہے یا کوئی وردان

ہم تو سب بھول کے سنسار سے لگ جاتے ہیں


عزیز پریہار

2 comments:

  1. واہ واہ 👏🏻👏🏻👌👌♥️❤️🌹

    ReplyDelete
    Replies
    1. السلام علیکم سہیل شاہد صاحب! بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ، شاعری کو سراہنے کے لیے تہ دل سے مشکور ہوں۔

      Delete