صفحات

Wednesday, 20 October 2021

خموش ہوتی صداؤں کا شور دیکھا نہیں

 خموش ہوتی صداؤں کا شور دیکھا نہیں

حضور آپ نے ہجرت کا دور دیکھا نہیں

وہ آنکھ اتنی طلسماتی ہے کہ ہم نے اسے

قریب رہتے ہوئے بھی بغور دیکھا نہیں

میں اپنی عمر سے دو چار سال چھوٹا ہوں

وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے لہور دیکھا نہیں

دکھایا تھا جو فقط آپ نے وہی دیکھا

ہماری آنکھ نے پھر کچھ بھی اور دیکھا نہیں

پتا نہیں ہے تجھے کیا مِری محبت کا 

تو میری فسٹ اننگ کا سکور دیکھا نہیں

ہمیشہ لڑتا ہوں اس سے یونہی زوہیب احمد

کبھی حریف کا اپنے میں زور دیکھا نہیں


احمد زوہیب

No comments:

Post a Comment