صفحات

Wednesday, 20 October 2021

ایماں ہے ہمارا ایماں ہے ہمارا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ایماں ہے ہمارا ایماں ہے ہمارا 

کرتا ہے مدح آپ کی قرآن کا پارہ


حاصل ہے فرشتوں کو جو یہ صور کا صدقہ

موسیٰ کو جو حاصل ہے سرِ طور کا صدقہ 

یوسف کو کہاں ملتا رخِ حور کا صدقہ

تخلیقِ دوعالم ہے تیرے نور کا صدقہ 

منسوب تیری ذات سے ہے کُن کا اشارہ


تو ذات خدا مظہر لولاک لما ہے 

القاب تیرا صلی علی نورِ خدا ہے 

تُو ہاشمی رحمان و امیں صدق و وفا ہے

کونین کا ہر زرہ تِرے دم سے بنا ہے

بہتا ہے تیرے نام سے دریا کا یہ دھارا


ہونٹوں پہ تیرا نام سجا لیتے ہیں ہم سب

دنیا کے مصائب کو اٹھا لیتے ہیں ہم سب 

دریاؤں میں اک راہ بنا لیتے ہیں ہم سب

طوفاں میں چراغوں کو جلا لیتے ہیں سب

اے فخر رسل ہم  پہ جو احساں ہے تمہارا


تعلیمِ فنا اور بقا اس سے ملی ہے 

بے پردا سروں کو بھی ردا اس سے ملی ہے

سنسار کو جینے کی ادا اس سے ملی ہے

بیمار مریضوں کو شفا اس سے ملی ہے

سرکارﷺ کی آمد کا لگاتے رہو نعرہ


قرآن ملا دین کے رہبر کی بدولت 

منبر ہے یہ اصحاب کے جوہر کی بدولت 

مسجد میں اذاں یارِ پیمبر کی بدولت 

بوبکر و عمر عثماں و حیدر کی بدولت

اسلام کی کشتی کو دیا تم نے کنارا


یہ گھر نہیں گھر ہوتا یہ حیوان کا مسکن

انسانی ذہن ہوتا یہ شیطان کا مسکن 

 کعبہ نا کبھی ہوتا یہ ایمان کا مسکن 

دل ہوتا نا پھر سید سلطان کا مسکن

ہے شکر خدا اس نے جو قرآن اتارا


پتھر بھی پگھل سکتا ہے اک ماں کی دعا سے 

زم زم بھی ابل سکتا ہے اک ماں کی دعا سے

گرتا بھی سنبھل سکتا ہے اک ماں کی دعا سے

حاکم بھی بدل سکتا ہے اک ماں کی دعا سے 

ماں ایسی ہیں تاریخ میں دو ہاجرہ سارہ


کربلا  میں گرا جو وہ پیمبر کا لہو تھا

زہرا کا جگر فاتح خیبر کا لہو تھا

چہرے پہ ملا جس کو وہ اصغر کا لہو تھا

مٹی پہ اگر گرتا تو محشر کا لہو تھا

اس خوں سے ہے روشن ابھی کعبے کا منارہ


اس صبر نے بخشی  ہے بہتر کو جوانی

اسلام کے  گلشن کے گل تر کو جوانی 

تسبیح میں گوندھے ہوئے گوہر کو جوانی

اس خوں سے ملی دین پیمبر کو جوانی 

کربل میں دیا خون وہ حیدر کا دلارا


اجمیر کچھوچہ اسی بھارت کی زمیں پر

مخدوم ہیں خواجہ اسی بھارت کی زمیں پر

کلیر کہیں دیوا اسی بھارت کی زمیں پر

دل اس لیے شیدا اسی بھارت کی زمیں پر

یہ جان فدا اس پہ ہے ایمان ہمارا


انصار و مہاجر کے وہ سردار کی آمد

ہاں ہاں اسی مختار کی دلدار کی ہے آمد 

ہم بے کس و افلاس کے غمخوار کی آمد 

ہے آج زمیں پر اسی انوار کی آمد 

صدیوں سے چمکتا تھا جو اک عرش پہ تارا


کسریٰ سے فلسطین سے پہچان لے دنیا 

فاروق کا تیور ہیں ہمیں جان لے دنیا 

ہم خالدِ جاں باز ہیں یہ مان لے دنیا 

تاریخ کے اوراق میں یہ چھان لے دنیا 

دریا کی روانی پہ بھی قبضہ ہے ہمارا


تلواروں کے سائے میں ازاں دیتا گیا ہے

اور نام محمدﷺ وہ سدا پڑھتا گیا  ہے

تپتے ہوئے پتھر پہ اسے کھینچا گیا ہے

سانچے میں محبت کے مگر ڈھلتا گیا ہے

حبشہ کا وہ باشندہ ہے  سرکار کا پیارا


اللہ کی رحمت سے بہت دور ہوئے ہیں 

دعویٰ ہے کہ جنت سے بہت دور ہوئے ہیں 

ہم اپنی شفاعت سے بہت دور ہوئے ہیں 

سرکار کی سنت سے بہت دور ہوئے ہیں 

پھر کیوں نہ مسلمان پھرے درد کا مارا


آئے گا نہ اب کوئی پیمبر تو اب جاگو

بن کر کے ابابیلوں کا لشکر تو اب جاگو 

غیرت ہے مسلمانوں کے رہبر تو اب جاگو 

خطرے میں فلسطیں کا ہے منبر تو اب جاگو 

اقصیٰ کا صدا دیتا ہے گنبد وہ منارہ


جب فرقۂ اسلام کو جوڑیں گے مسلماں 

حالات کا رخ لمحوں میں موڑیں گے مسلماں 

ظالم کی کلائی کو مروڑیں گے مسلماں

جب صبر کی دیوار کو توڑیں گے مسلماں 

ڈھونڈے گی حکومت تیری پھر کشتی کنارا


گھبراتا ہے گھبرائے زمانہ سرِ محشر 

مِدحت کا لٹاؤں گا خزانہ سرِ محشر 

قدموں میں ملے ان کے ٹھکانا سرِ محشر

دلشاد یہی نعت سنانا سرِ محشر

محشر میں کریں گے وہ تِری سمت اشارہ


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment