کھینچ لائے گی کوئی مصرعۂ تر آخر کار
زلف زنجیر سے نازک ہے مگر آخر کار
ہر دوراہے پہ کوئی یار بچھڑ جانا ہے
کون ادا کرتا ہے تاوانِ سفر آخر کار
کون خورشید کو پلٹائے کہ جنگل سے ادھر
مورنی جھاڑ گئی جھیل میں پر آخر کار
اڑ کے دیوارِ شفق سے یہ پرند مہتاب
جانے کیا جھانکنے آیا مِرے گھر آخر کار
اور جہاں ختم ہوا ہے من و سلویٰ کا نزول
کام آیا ہے مِرا رزقِ ہنر آخر کار
شام تک ایک بھی چہرہ نہ رکا میرے لیے
بند ہونے لگا بازارِ نظر آخر کار
کچھ سیہ پوش چراغوں کا بھلا کیا مذکور
اژدھے کھا گئے مہتابِ نگر آخر کار
طالب حسین طالب
No comments:
Post a Comment