صفحات

Monday, 11 October 2021

ہم آخرت کے راہی

 ہم آخرت کے راہی


دنیا سے جی چرا کر عقبیٰ سے دل لگا کر

اپنوں سے دور جا کر خوں جگر جلا کر

ہم دے چلے جہاں میں توحید کی گواہی

ہم آخرت کے راہی


طارق کی پیروی میں پس قدمیاں بھلا کر

کودے تھے ساحلوں پر ہم کشتیاں جلا کر

بے نور گھاٹیوں کی ہم سے چھٹی سیاہی

ہم آخرت کےراہی


رب سے کیا تھا وعدہ جنت کا تھا ارادہ

مرنے کی جستجو تھی جینے سے بھی زیادہ

تثلیث کی صفوں میں ہم سے مچی تباہی

ہم آخرت کے راہی


حاصل جمہوریت کا، انسان کی ترقی

ارواح کا تنزل ابدان کی ترقی

ہم چاہ تو سکتے تھے لیکن نہ ہم نے چاہی

ہم آخرت کے راہی


اک شہرِ بے اماں میں مسکن رہا ہمارا

بے خانماں سہی پر ہم نا تھے بے سہارا

ہوتے نہیں ہیں تنہا اللہ کے سپاہی

ہم آخرت کے راہی


پہلے بھی اٹھے طوفاں ان یورپی ندیوں سے

جنگِ صلیب جاری ہے آج بھی صدیوں سے

افغان سے بھی لیکن چھوٹی نہ کج کلاہی

ہم آخرت کے راہی


عشرت سے کیسے گزرے جب دیں پہ آنچ آئے

یہ سر ہو دوش پر کیوں. یہ جان کیوں نہ جائے ؟

حق جانتا ہے کس نے کیسے وفا نباہی

ہم آخرت کے راہی


ہم رحمتِ جہاں کی پیرو ہوں نرم خو ہوں

نفرت کے دشت وبن میں الفت کی جستجو ہوں

ہم امتِ نبیﷺ پر ہوں رحمتِ الہی

ہم آخرت کے راہی


جس جا کہے شریعت ہم سربکف وہاں ہوں

حق روک دے جو لیکن رک جائیں ہم جہاں ہوں

ہم کو نہ ہو گوارا اسلام کی تباہی

ہم آخرت کے راہی​


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment