صفحات

Saturday, 2 October 2021

کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں

 کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں

مر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں

کبھی درونِ ذات کے منظر تھے ان میں

کنکر ہی کنکر ہیں اب تالابوں میں

ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے

کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں

گرتی جائے رشتوں کی مضبوط فصیل

نخلستان بدلتا جائے سرابوں میں

ذہنوں میں تشویش دلوں میں خوف بہت

ساری بستی ہے محصور عذابوں میں

آئی حسابوں میں جب دنیا کی تسخیر

اک لمحہ غائب تھا سبھی حسابوں میں


خاور اعجاز

No comments:

Post a Comment