صفحات

Sunday, 3 October 2021

گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو

 گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو

جی کو لگے کہیں کوئی کردار بھی تو ہو

یہ کیا کہ برگِ زرد سا ٹوٹے بکھر گئے

آندھی چلے، ہواؤں کی یلغار بھی تو ہو

سر کو عبث ہے سنگِ تواتر کا سامنا

صحنِ مکاں میں شاخ ثمر بار بھی تو ہو

انمول ہم گہر ہیں مگر تیرے واسطے

بِک جائیں کوئی ایسا خریدار بھی تو ہو

کاغذ کی کشتیوں میں سمندر لپیٹ لیں

پہلو میں تیرے قُرب کی پتوار بھی تو ہو

سب کو اسی کے لہجہ کی توقیر چاہیۓ

محسن! کسی کو میر سا آزار بھی تو ہو


محسن جلگانوی

No comments:

Post a Comment