صفحات

Sunday, 3 October 2021

نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ

 نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ

رقص کرتی ہے انگھوٹھی انگلیوں کے ساتھ ساتھ

اس کبوتر کے نشیمن میں ہے شاید ایک سانپ

قہقہے جو آ رہے ہیں سسکیوں کے ساتھ ساتھ

ہو نہ پایا ہے کبھی بھی دونوں جسموں کا ملاپ

ایک صحرا چل رہا ہے، پانیوں کے ساتھ ساتھ

عہدے داروں میں پنپتی ہے تغیّر کی کتھا

ظرف بھی تبدیل ہو گا کرسیوں کے ساتھ ساتھ

آخرش اس زندگانی کا ہوا ہے اختتام

مشکلیں چلتی رہیں آسانیوں کے ساتھ ساتھ

تجھ کو سب کچھ دے دیا ہے قلزمِ زخّار نے

سیپ جو محوِ سفر تھے موتیوں کے ساتھ ساتھ

رائیگانی کی وساطت سے زمیں پر گر گیا

خوش مزاجی کا تصور پانیوں کے ساتھ ساتھ

رنگتوں کا رنگ اترا دیکھ کر احسن عزیز

پھول بھی اڑنے لگے تھے تتلیوں کے ساتھ ساتھ


عزیز احسن

No comments:

Post a Comment