نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ
رقص کرتی ہے انگھوٹھی انگلیوں کے ساتھ ساتھ
اس کبوتر کے نشیمن میں ہے شاید ایک سانپ
قہقہے جو آ رہے ہیں سسکیوں کے ساتھ ساتھ
ہو نہ پایا ہے کبھی بھی دونوں جسموں کا ملاپ
ایک صحرا چل رہا ہے، پانیوں کے ساتھ ساتھ
عہدے داروں میں پنپتی ہے تغیّر کی کتھا
ظرف بھی تبدیل ہو گا کرسیوں کے ساتھ ساتھ
آخرش اس زندگانی کا ہوا ہے اختتام
مشکلیں چلتی رہیں آسانیوں کے ساتھ ساتھ
تجھ کو سب کچھ دے دیا ہے قلزمِ زخّار نے
سیپ جو محوِ سفر تھے موتیوں کے ساتھ ساتھ
رائیگانی کی وساطت سے زمیں پر گر گیا
خوش مزاجی کا تصور پانیوں کے ساتھ ساتھ
رنگتوں کا رنگ اترا دیکھ کر احسن عزیز
پھول بھی اڑنے لگے تھے تتلیوں کے ساتھ ساتھ
عزیز احسن
No comments:
Post a Comment