صفحات

Friday, 1 October 2021

لگتی ہیں ساری کاغذی باتیں

 لگتی ہیں ساری کاغذی باتیں

تیری باتیں ہیں عارضی باتیں

تیری باتوں پہ مر گئی تھی میں

دل میں اتری ہیں بس تِری باتیں

زندگی نے نہیں دیا موقع

تجھ سے کرنی تھیں آخری باتیں

جب سے وہ فرد ہم سے روٹھا ہے

ہم سے کرتی ہے خامشی باتیں

جتنا اندر سے خالی ہوتا ہے

اتنا کرتا ہے آدمی باتیں

چاہے تو پارسا ہو کتنا بھی

جگ بنائے گا لازمی باتیں

میرا مالک ہی اب تو سمجھے گا

وہ تو سنتا ہے ان کہی باتیں

تیری باتیں بھی کوئی باتیں ہیں

صرف لگتی ہیں شاعری باتیں

ایک درویش نے دعا دی تو

پھر خدا نے مِری سنی باتیں

صوفیہ سب کو خاک ہونا ہے

خاک ہو جائیں گی تِری باتیں


صوفیہ زاہد

No comments:

Post a Comment