صفحات

Monday, 4 October 2021

ممکن ہے شے وہی ہو مگر ہو بہ ہو نہ ہو

 ممکن ہے شے وہی ہو مگر ہو بہ ہو نہ ہو

ریگ رواں بھی دیکھ کہیں آب جو نہ ہو

قائم اسی تضاد کے دم سے ہے کائنات

میں آرزو ہوں جس کی مِری آرزو نہ ہو

منظر بدل بدل کے بھی دیکھا ہے بارہا

جو زخم اب ہے آنکھ پہ شاید رفو نہ ہو

سہتا رہا ہوں ایک تسلسل سے اس لئے

یہ ٹوٹ پھوٹ ہی مِری وجہ نمو نہ ہو

میں خود ہی بجھنے لگتا ہوں جلتے ہوئے چراغ

جس روز تیری لو سے مِری گفتگو نہ ہو

دیکھو بدل کے زاویہ اپنی نگاہ کا

جو روبرو نہیں ہے وہی روبرو نہ ہو

میرے وجود سے ہے یہ دنیائے رنگ و بو

لیکن مِرا جہان فقط رنگ و بو نہ ہو

مشکل مِری حدوں کا تعین ہے آفتاب

وہ روشنی بھی کیا ہے کہ جو چار سو نہ ہو


آفتاب احمد شاہ

No comments:

Post a Comment