صفحات

Sunday, 3 October 2021

ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے

 ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے

ہاتھ سونے کو لگاتا ہوں تو پیتل ہو جائے

تنہا رہنا ہے تو تنہائی مکمل ہو جائے

کیوں نہ ہر شخص تصور سے بھی اوجھل ہو جائے

مر چکا آنکھ میں امید کا پنچھی میرا

میرے ارمانوں کی دھرتی بھی نہ دلدل ہو جائے

عشق نازک سا وہ جذبہ ہے جو اندر اندر

کبھی چبھتا بھی رہے اور کبھی مخمل ہو جائے

جس کو چاہو نہ ملے، جس کو نہ چاہو، وہ ملے

زندگی!! تیرا معمہ بھی کبھی حل ہو جائے

لَو میں جس کی میں جلا کرتا ہوں دن رات وہی

جب مجسم ہو ان آنکھوں میں تو جل تھل ہو جائے

وقت نے اتنی گزارش بھی مِری ٹھکرا دی

آرزو تھی کوئی اک پل بھی مِرا پل ہو جائے

گھر میں یاد آتے ہیں وحشت کے وہ دن رات سہیل

ایسا ہو، اب یہی کمرہ مِرا جنگل ہو جائے


سہیل اختر

No comments:

Post a Comment