آبگینے
ذرا دھیرے سے تم چلنا
کہ یہ وہ آبگینے ہیں
کہ جو گھر بھر کی زینت بھی
کبھی ہو پیاس کی شدت
تو یہ پانی پلاتی ہیں
کبھی سورج کی ہو حدت
تو یہ سایہ بناتی ہیں
یہ ہیں آنگن کے تارے جو
ہمیشہ جگمگاتے ہیں
مکاں کو زر بناتے ہیں
انہی میں وہ قرینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں
یہی آنکھوں کی ہیں ٹھنڈک
یہی ٹھنڈک بھی راحت بھی
انہی سے رونقِ محفل
انہی سے حرمتِ محمل
بھری شاداب دنیا میں
یہی سرسبز اک حاصل
یہی جنت کے زینے ہیں
کہ یہ ہے ماں،یہی بیٹی، یہی بہنا
یہی ہے ہاتھ کا گہنا
محاذوں پر جو نکلو تو
یہی پیروں کی بیڑی بھی
بنی پسلی سے ہے یہ
اس لیے تھوڑی سی ٹیڑھی بھی
مگر تم توڑ مت دینا
انہیں مستور ہی رکھنا
کہ عصمت کے نگینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں
کبھی سوچا بھی ہے تم نے
یہ کتنا دُکھ اُٹھاتی ہیں
تمہاری زندگی کو
کس طرح شاداب بناتی ہیں
تمہاری راہ کے کانٹے
یہ چُن لیتی ہیں پلکوں سے
سفر آساں بناتی ہیں
سنور جائیں اگر
اک نسل کا ایماں بناتی ہیں
پھر ان معصوم کلیوں کو
یہی بصری، یہی سفیاں بناتی ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں
احسن عزیز مرزا
No comments:
Post a Comment