صفحات

Monday, 11 October 2021

کالی غزل سنو نہ سہانی غزل سنو

 کالی غزل سنو نہ سہانی غزل سنو

موسم یہ کہہ رہا ہے کہ دھانی غزل سنو

جاگا وہ درد دل میں کہ آنسو نکل پڑے

برسا ہے آج ٹوٹ کے پانی غزل سنو

افسانۂ جنوں نہیں پابندِ ماہ و سال

یاد آ رہا ہے دورِ جوانی، غزل سنو

اپنی تمام عقل پرستی کے باوجود

یہ زندگی ہے اب بھی دِوانی غزل سنو

یوں تو سخن کے اور بھی پیرائے ہیں مگر

کہنی ہے ہم کو دل کی کہانی غزل سنو

ہوں زخم عشق یا کہ زمانے کے درد و داغ

ہر غم یہاں ہے دشمن جانی، غزل سنو

خون جگر میں فکر کی گہرائیاں بھی ہیں

گر ہے مزاج فلسفہ دانی، غزل سنو

سر پر ہوائے سنگِ ملامت چلی بہت

لیکن غزل نے ہار نہ مانی، غزل سنو

زیبِ شفق ہے نوعِ بشر کا لہو سحر

ہر شے ہے اس جہان کی فانی، غزل سنو


ابو محمد سحر

No comments:

Post a Comment