صفحات

Friday, 1 October 2021

وعدہ کرنا بھی نہِیں تجھ کو نبھانا بھی نہِیں

 وعدہ کرنا بھی نہِیں تجھ کو نبھانا بھی نہِیں

سب ہے معلوم تجھے لوٹ کے آنا بھی نہِیں

رہنے دیتا ہی نہِیں تُو جو درونِ دل اب

اور مِرا دل کے سوا کوئی ٹھکانہ بھی نہِیں

کتنے جگنو تھے، مِرے دوست ہوئے گرد آلود 

اب مجھے دِیپ محبت کا جلانا بھی نہِیں

تتلیاں لب پہ مِرے کیسی یہ مُسکان کی ہیں

کھولنا تجھ پہ نہِیں بھید، چُھپانا بھی نہِیں

اس کی چُپ دل کو مگر چِیر کے رکھ دیتی ہے

بات کرنے کا مِرے پاس بہانہ بھی نہِیں 

میں نے اک عمر اسی میں ہی لگا دی یارو

"اب تو یکطرفہ محبت کا زمانہ بھی نہِیں"

یہ جو منسوب ہے اک درد کہانی مجھ سے

سچ تو یہ ہے کہ کوئی جُھوٹا فسانہ بھی نہِیں

میں نے ہر بار محبت کا بھرم رکھا ہے

اب کے رُوٹھا تو تِرے شہر پِھر آنا بھی نہِیں

اب کہِیں اور رشؔید اپنا ٹھکانہ کر لے

مجھ کو اب درد کو سینے سے لگانا بھی نہِیں


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment