صفحات

Wednesday, 20 October 2021

کچھ ایسے زخم ہیں جن کے نشاں نہیں جاتے

کچھ ایسے زخم ہیں جن کے نشاں نہیں جاتے

اگرچہ لاکھ مٹائیں میاں! نہیں جاتے

کسی کا ہاتھ تھا سر پر سو بچ گئے ورنہ

تمہارے ہاتھ کے پھینکے کہاں نہیں جاتے

وہاں وہاں پہ تِری آنکھ مار کرتی ہے

جہاں جہاں پہ یہ تیر و کماں نہیں جاتے

ہماری نیند کو کاندھا نہ مل سکا ورنہ

ہمارے خواب کبھی رائیگاں نہیں جاتے

ہماری سوچ پہ انگلی اٹھانے والے سن

ہماری سوچ تلک آسماں نہیں جاتے

ہمیں یقین ہے ہم کو وہیں پہ جانا ہے

جہاں پہ دل نہیں لگتا جہاں نہیں جاتے


عثمان سکندر 

No comments:

Post a Comment