صفحات

Sunday, 3 October 2021

بتاؤ کیا حال ہو گا

 جب مدتوں بعد

تم اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولو گے

اپنی پرانی پوسٹوں پر

میرے لائیکس اور کمنٹ دیکھو گے

لیکن مجھے نہ پاؤ گے

تو بتاؤ کیا حال ہو گا شدتِ غم سے

ایک آنسو ضبط کی سرحد کو توڑ کر

خشک ہونٹوں میں جذب ہو جائے گا نا

جب میری ویران اور 

اک عرصے سے خاموش وال پر جاؤ گے

ون ڈے اگو کے بجائے

ایک طویل وقت کا سکوت دیکھو گے

تو بتاؤ کیا حال ہو گا

دل سے اٹھتی درد کی ٹیسیں 

آہ کی شکل میں منہ سے نکلیں گی نا

جب شئیر شدہ

میری چاہتوں سے بھری

محبتیں برسانے والی

پیار بھری پوسٹیں

دیکھو گے

تو بتاؤ کیا حال ہو گا

یادوں کی انگلی پکڑ کر

ماضی کے اک جزیرے میں آ بسو گے نا

جب کسی اور کی پوسٹ پر

میرے کمنٹ سامنے سے گزریں گے

تو بتاؤ کیا حال ہو گا

حسد کی آگ اور اپنائیت کی جلن میں اس دن بھی جلو گے نا

بتاؤ اس دن کیا حال ہو گا

جب میرے بِن

فیس بک تمہیں پھیکی پھیکی سی لگے گی

جب تمہیں لاگ ان ہوتے ہی

چاروں طرف اجنبیت

بیگانگیت

اور بوریت نظر آئے گی

جب کچھ پوسٹ کرنے کو دل نہیں چاہے گا

کچھ پڑھنے کو من نہیں مانے گا

تو ندامت کی عینک لگا کر

معافی کی سڑک پر پیچھے کو مڑو گے نا 

ہمیں

ہر نگر

ہمیں ہر گلی

ڈھونڈو گے نا

لیکن ہم نہیں ہوں گے

نہ ہم ملیں گے

نہ ہم پلٹیں گے

ہم تو اپنے خوابوں کی طرح

کہیں دفن ہو چکے ہوں گے

اپنی آرزؤں کی طرح

کہیں اڑ چکے ہوں گے

ہم کو پلٹ کے دیکھنا

مشکل سا ہو گیا

شاید تیری صداؤں سے بہت دور نکل گئے ہم


بدر نوید

No comments:

Post a Comment