صفحات

Thursday, 21 October 2021

پانے میں نہ کھونے میں سکھ

 بے بسی


پانے میں نہ کھونے میں سکھ

ہنسنے میں نہ رونے میں سکھ

اب تو یوں ہے

ہنسنے رونے کا مطلب تبدیل ہوا ہے

تیرا ملنا بھی غم کی تمثیل ہوا ہے

پیار کے جذبے آنکھوں میں دم توڑ رہے ہیں

مجھ کو تنہا چھوڑ رہے ہیں

اب تو یوں ہے

چشمِ تر تیرے جلوؤں کو ترس رہی ہے

یاسیت کی بارش دل پر برس رہی ہے

صبح سہانی بھی ہےرات کے منظر جیسی

میری آنکھ کے منظر جیسی

اب تو یوں ہے

ایک گھٹن ہے میرے دل کے بند کمرے میں

اب صبا کا اک جھونکا بھی نہیں میسر

اب تو یوں ہے

دن میرا مصروفیت میں کٹ جاتا ہے

لیکن برسوں لمبی راتیں

کٹتی ہیں نہ دن چڑھتا ہے

تنہائی میں دل ڈرتا ہے

تجھ کو تو معلوم ہےجاناں

جیسی اب ہے ویسی حالت کب تھی میری

تیرے ملنے اور بچھڑجانے سے پہلے

مَیں گلیوں کا خس تو نہ تھا

بے کس تھا بےبس تو نہ تھا


شعیب مظہر

No comments:

Post a Comment