بے بسی
پانے میں نہ کھونے میں سکھ
ہنسنے میں نہ رونے میں سکھ
اب تو یوں ہے
ہنسنے رونے کا مطلب تبدیل ہوا ہے
تیرا ملنا بھی غم کی تمثیل ہوا ہے
پیار کے جذبے آنکھوں میں دم توڑ رہے ہیں
مجھ کو تنہا چھوڑ رہے ہیں
اب تو یوں ہے
چشمِ تر تیرے جلوؤں کو ترس رہی ہے
یاسیت کی بارش دل پر برس رہی ہے
صبح سہانی بھی ہےرات کے منظر جیسی
میری آنکھ کے منظر جیسی
اب تو یوں ہے
ایک گھٹن ہے میرے دل کے بند کمرے میں
اب صبا کا اک جھونکا بھی نہیں میسر
اب تو یوں ہے
دن میرا مصروفیت میں کٹ جاتا ہے
لیکن برسوں لمبی راتیں
کٹتی ہیں نہ دن چڑھتا ہے
تنہائی میں دل ڈرتا ہے
تجھ کو تو معلوم ہےجاناں
جیسی اب ہے ویسی حالت کب تھی میری
تیرے ملنے اور بچھڑجانے سے پہلے
مَیں گلیوں کا خس تو نہ تھا
بے کس تھا بےبس تو نہ تھا
شعیب مظہر
No comments:
Post a Comment