ذہن و دل کا قرار کھینچتی ہے
جب محبت حصار کھینچتی ہے
جا رہا ہوں میں پھر سُوئے صحرا
پھر کسی کی پکار کھینچتی ہے
ناقۂ دل ہے ایک شوخ کے ہاتھ
اور وہ اکثر مہار کھینچتی ہے
وہ جو کہتی تھی لوٹنا نہ کبھی
اب وہی انتظار کھینچتی ہے
سانس تازہ ہوا کے چکر میں
سارا گرد و غبار کھینچتی ہے
خوں کے رشتوں کا دل کے رشتوں کا
زیست کتنا ادھار کھینچتی ہے
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment