سنے تو گرمِ سفر ہو نہ آسماں کے لیے
مِرے گلو میں وہ نغمہ ہے سارباں کے لیے
سوادِ زہرہ و مریخ میں حیات کہاں؟
یہ سنگ و خِشت ہیں اگلے کسی جہاں کے لیے
اگرچہ سینۂ آدم میں ہے مقام اس کا
تڑپ رہی ہے مگر اپنے آشیاں کے لیے
سنبھال کر اسے رکھوں کہ یہ دلِ ناداں
اک ارمغاں ہے خداوندِ مہرباں کے لیے
وہی چراغ کہ جلتی ہے آرزو جس میں
اندھیری شب ہے تو لایا ہوں کارواں کے لیے
ہوئی ہے سارے زمانے کی داستاں آخر
وہ ایک بات کہ تھی زیبِ داستاں کے لیے
روا نہیں ہے مسلماں کو خوئے نومیدی
کہ سرد و گرمِ زمانہ ہیں امتحاں کے لیے
تِرا کرم ہے کہ سجدوں کی جستجو میں رہے
دل و نگاہ تِرے سنگ آستاں کے لیے
عطا ہو اہلِ حرم کو کہ آشنا تھے کبھی
وہ ایک جُرعہ کہ باقی تھا کشتگاں کے لیے
جاوید احمد غامدی
No comments:
Post a Comment