صفحات

Wednesday, 20 October 2021

تن نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی

 تنِ نحیف کی خاطر ردا نہیں مانگی

بہت دنوں سے خدا سے دعا نہیں مانگی

خود اپنی لاش کو اپنے لہو سے ڈھانپا ہے

ہری رُتوں سے گُلوں کی قبا نہیں مانگی

چھتوں پہ پیاس پڑاؤ کیۓ رہی لیکن

سیاہ بخت گھروں نے گھٹا نہیں مانگی

کوئی شجر نہ خریدا خلوصِ جاں کے عِوض

شدید دھوپ میں ٹھنڈی ہوا نہیں مانگی

سکوتِ مرگ لبوں کو پسند ہے اتنا

جو مستعار ملے وہ صدا نہیں مانگی

نزولِ موسمِ تحقیرِ جاں سے بچنے کی

گلاب ایسے بدن نے دعا نہیں مانگی


نیاز حسین لکھویرا

No comments:

Post a Comment