صفحات

Thursday, 21 October 2021

زخم تو زخم ہے کچھ دیر میں بھر جائے گا

 زخم تو زخم ہے کچھ دیر میں بھر جائے گا

لفظ نشتر ہے رگِ جاں میں اتر جائے گا

تیری رحمت کا یہ دریا وہ مسافر ہے کہ جو

میری بستی سے دبے پاؤں گزر جائے گا

رنگ کچا ہے تِرے شہرِ وفا کا جاناں 

غم کی ایک لہر چلے گی تو اتر جائے گا

آ تیری مانگ میں اس شام کی سرخی بھر دوں

اس کی تزئین سے یہ حسن نکھر جائے گا

اس قدر موت کے ساماں کا ہے انبار لگا

کل کا انسان جو دیکھے گا تو ڈر جائے گا

ظلم کی دھوپ میں نفرت تو پنپ سکتی ہے

پیار تو پھول ہے اس دھوپ میں مر جائے گا

پہلے برباد تو کر لے یہ زمیں کا چہرہ 

پھر یہ انسان کسی اور نگر جائے گا 


بشیر احمد شاد

No comments:

Post a Comment