صفحات

Monday, 11 October 2021

میں ڈر رہا ہوں اسے گھر یہ بیچنا نہ پڑے

 میں ڈر رہا ہوں اسے گھر یہ بیچنا نہ پڑے

یہ سارا ملبہ مجھے ہی سنبھالنا نہ پڑے

اضافی جان کے رکھ لے تُو اپنے پاس مجھے

کوئی نہ ہو تو تجھے مجھ کو ڈھونڈنا نہ پڑے

کچھ اس لیے میں تمہارا خیال رکھتا ہوں

پرائی چیز کو حسرت سے دیکھنا نہ پڑے

میں سوچتا ہوں بچھڑتے سمے لڑائی ہو

میں چاہتا ہوں مقدر کو کوسنا نہ پڑے

یقین کیسے دلاؤں میں خوش ہوں اس کے بغیر

پھر اس کے بعد مجھے جھوٹ بولنا نہ پڑے

نیا شریکِ سفر بھا گیا تو ڈر ہے مجھے

اداسیوں کو کہیں اور بھیجنا نہ پڑے


صداقت نیازی

No comments:

Post a Comment