صفحات

Saturday, 2 October 2021

گم کردہ راہ خاک بسر ہوں ذرا ٹھہر

 گم کردہ راہ خاک بسر ہوں ذرا ٹھہر

اے تیز رو غبارِ سفر ہوں ذرا ٹھہر

رقصِ نمود یک دو نفس اور بھی سہی

دوشِ ہوا پہ مثلِ شرر ہوں ذرا ٹھہر

اپنا خرام تیز نہ کر اے نسیمِ زیست

بجھنے کو ہوں چراغِ سحر ہوں ذرا ٹھہر

وہ دن قریب ہے کہ میں آنکھوں کو موند لوں

یعنی ہلاکِ ذوقِ نظر ہوں ذرا ٹھہر

اے دوست! میری تلخ نوائی پہ تو نہ جا

شیریں مثال خواب سحر ہوں ذرا ٹھہر

جس راہ سے اٹھا ہوں وہیں بیٹھ جاؤں گا

میں کارواں کی گردِ سفر ہوں ذرا ٹھہر

اے شہسوارِ حسن مجھے روند کر نہ جا

واماندہ مثلِ راہ گزر ہوں ذرا ٹھہر

اے آفتابِ حسن مِری کیا بساط ہے

دریوزہ گر ہوں نورِ قمر ہوں ذرا ٹھہر

موہوم سی امید ہوں مجھ سے گریز کیا

اپنی کسی دعا کا اثر ہوں ذرا ٹھہر


زیڈ اے بخاری 

ذوالفقار علی بخاری

No comments:

Post a Comment