صفحات

Wednesday, 3 November 2021

چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے

 چاہتوں کی جو دل کو عادت ہے

یہ بھی انساں کی اک ضرورت ہے

ہم فرشتے کہاں سے بن جائیں

عشق انسان کی جبلت ہے

کون آیا ہے، کون آئے گا

بے سبب جاگنے کی عادت ہے

کیا ملیں گے جو کھو گئے اک بار

بھیڑ میں ڈھونڈھنا قیامت ہے

ان کے انداز دشمنی میں بھی

دوستی کی عجب شباہت ہے

میرے اندر جو میرا دشمن ہے

ہو بہو وہ مِری ہی صورت ہے

ان کے وعدوں سے یہ ہوا معلوم

جھوٹ سب سے بڑی صداقت ہے

اس قدر دور کیوں نکل آئے

اب تو گھر لوٹنا قیامت ہے

ان کے لہجے میں ان کی باتوں میں

چاندنی رات کی صباحت ہے

یہ کہانی بھی خوب ہے یارو

ہر جگہ ایک سی عبارت ہے

وجد یادوں میں ان کی غم رہنا

راحتوں کی ہزار راحت ہے

کس لیے وجد! دل گرفتہ ہو

دشمنی دوستوں کی عادت ہے


وجد چغتائی

No comments:

Post a Comment