صفحات

Tuesday, 23 November 2021

شہر احساس میں زخموں کے خریدار بہت

 شہر احساس میں زخموں کے خریدار بہت

ہاتھ میں سنگ اٹھا شیشوں کے بازار بہت

کوئی کھڑکی ہے سلامت نہ کوئی دروازہ

میرے گھر کے سبھی کمرے ہیں ہوا دار بہت

ہاتھ تھکتے نہیں رنگوں کے ہیولے بن کر

اہل فن کو سر کاغذ خط پر کار بہت

دشت میں بھی وہی آثار ہیں آبادی کے

پھیلتا جاتا ہے اب سایۂ دیوار بہت

دھوپ کا پھول گرا شاخ شفق سے جس دم

دن کا چہرہ نظر آتا تھا شکن‌ دار بہت

نقش ہے ذہن پہ یوں تیرا طلسمی پیکر

میں ہوں خود اپنی نگاہوں میں پر اسرار بہت

لفظ کرنوں کی طرح دل میں اتر جاتے ہیں

دل نشیں ہے ترا پیرایۂ اظہار بہت

خوف دشمن کی طرح میرے تعاقب میں بھی تھا

خنجر وہم کے میں نے بھی سہے وار بہت

تن گئے اتنے مرے گرد ہواؤں کے پہاڑ

سانس لینا بھی ہے میرے لیے دشوار بہت

اب بھی لمحوں سے سلاسل کی کھنک آتی ہے

اب بھی ہیں وقت کے زنداں میں گرفتار بہت

زخم کے چاند نہ راتوں کو مرے دل میں اتار

میرے سینے پہ نہ رکھ سنگ گراں بار بہت

تیرگی آئے نہ صدیق ضیا کے نزدیک

کاٹ رکھتی ہے یہ ٹوٹی ہوئی تلوار بہت


صدیق افغانی

No comments:

Post a Comment