صفحات

Tuesday, 2 November 2021

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے

رگ رگ میں تیرے ہجر کو بھرنا پڑا مجھے

تیرے لیے یہ کام بھی کرنا پڑا مجھے

تشنہ لبی تھی اور سمندر میں زہر تھا

تھوڑا سا جینے کے لیے مرنا پڑا مجھے

تنہا یہ تیرگی سے بھلا کیسے جیتتا

سورج کے ساتھ ساتھ ابھرنا پڑا مجھے

میں آپ اپنا بوجھ تھا اپنے ہی آپ پر

سو اپنے آپ سے ہی اترنا پڑا مجھے

ہائے جو میرے نام سے منسوب تھی گلی

چپ چاپ اسی گلی سے گزرنا پڑا مجھے

ایسی ادا سے اس نے سمیٹا تھا ایک بار

پھر خود میں بار بار بکھرنا پڑا مجھے


شیراز علی

No comments:

Post a Comment