ہر گُل پہ تازگی ہے کہ آئی نکھار رُت
ٹھہری ہے گلستان میں، ایسی بہار رت
ہے تتلیوں پہ چھائی، مستی شراب سی
کیسا یہ لے کے آئی ہے پھر سے خُمار رت
ہر پھول کی کلی پہ مگر ہو رہا ہے یوں
بھنورا منا رہا ہے یہاں، دل بہار رت
پچھلے برس کے پھول سجے ہیں گلاس میں
تنہائیوں کی چھاپ ہے یہ غمگسار رت
موسم بدل سکا نہ کبھی بھی نصیب کا
چھائی رہی ہے گُل پہ یہی بے قرار رت
کوکی گل
No comments:
Post a Comment