صفحات

Tuesday, 23 November 2021

کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے

 کوئی خوشبو سی لہرائے تو کیسے

ہوا چپ ہے، صدا آئے تو کیسے

ہر اک رستہ کھلے بس تیری جانب

کوئی تجھ سے نکل پائے تو کیسے

ہر اک کمرے میں میں اک ہی آئینہ ہے

کوئی اب خود سے شرمائے تو کیسے

اداسی جم گئی چوکھٹ سے لگ کر

تمہاری سرخوشی آئے تو کیسے

جو چپ ہوں تو صدائیں بولتی ہیں

ہواؤں کی صدا آئے تو کیسے

ارے پگلے تُو اپنے آپ میں رہ

بدن سایہ نگل جائے تو کیسے

کلیم حاذق کی اپنی راگنی ہے

کوئی شعلہ لپک جائے تو کیسے


کلیم حاذق

No comments:

Post a Comment