کاوہ آہن گر
ایک ضحاک کے کاندھوں پر
بیٹھے ہیں دو اجگر
جانے کب سے چاٹ رہے ہیں
ذہنوں کا جوہر
اس بستی میں کب اترے گا
کاوہ آہن گر
باغی ہیں بازار کی زینت
بیچ چکے لشکر
شاعر کے سب شبد بکاؤ
چکلے ہیں دفتر
اس بستی میں مارِ سیاہ ہیں
سارے دانشور
چپ کا ہنر ہے زوروں پر
ہے نامعلوم کا ڈر
اس بستی میں کب اترے گا
کاوہ آہن گر
بِن ہاتھوں کے جسم کروڑوں
شانوں پر ہیں سر
ان میں بھی بس ڈر
تیرا درفش، تیرا پرچم
لہرائے کیونکر
کاوہ آہن گر
قتل ضحاک نے ہونا ہے
مٹ جائیں گے اژدر
وقت کے انگاروں پر رکھی
تیغ ہے وہ خنجر
اس بستی میں پیدا ہو گا
آج نہیں تو کل
کاوہ آہن گر
مشتاق علی شان
No comments:
Post a Comment