صفحات

Tuesday, 23 November 2021

اپنی ہی زندگی پر الزام ٹھہرے

 الزام ٹھہرے


تم جھوٹ بول کر

سچ بول نہ سکیں

میں عمرِ رفتہ کا قیدی

سنسار سے ڈر گیا

ہم دونوں بزدل نکلے

بزدلوں کو نہ جینے کا حق ہوتا ہے

اور نہ ہی مرنے کا

ہم محبت کیسے کر سکتے ہیں

محبت تو بہادری کا نام ہے

اور ہم بے نام ٹھہرے

اپنی ہی زندگی کا

اپنی ہی زندگی پر

الزام ٹھہرے


احسان سہگل

No comments:

Post a Comment