کیوں مِرے واسطے اے یار اٹھے اور بیٹھے
مِری تعظیم کو بے کار اٹھے اور بیٹھے
یوں جھپکتی ہیں مسیحا تِری آنکھیں مخمور
جس طرح سے کوئی بیمار اٹھے اور بیٹھے
زیرِ دیوارِ صنم روئیے جا کر اتنا
سیکڑوں بار وہ دیوار اٹھے اور بیٹھے
کیا سبب ہے جو مِرے قتل میں تاخیر ہے یوں
ہاتھ میں لے تلوار اٹھے اور بیٹھے
کِس قدر ذوقِ شہادت ہے کہ ہم سو سو بار
پئے تعظیم سِتمگار اٹھے اور بیٹھے
ضعف ایسا ہے سخن یار کے گھر تک جو گئے
سو جگہ ہم دمِ رفتار اٹھے اور بیٹھے
سخن دہلوی
No comments:
Post a Comment