صفحات

Tuesday, 23 November 2021

دستبردار نہیں ہوں میں رہا ہونے سے

 دستبردار نہیں ہوں میں رہا ہونے سے

قید گھٹتی نہیں زندان بڑا ہونے سے

اتنی مہلت نہ ملی خود کو سمیٹوں سارا

رہ گیا اس میں، میں عجلت میں جدا ہونے سے

ہیں بیک وقت کئی عشق سو معلوم نہیں

دل پریشاں ہے بھلا کس کے خفا ہونے سے

اتنا کافی ہے مِری رہ گئی ہے بات یہاں

سر تو جاتا ہے نا مٹی میں انا ہونے سے

دل بھی مل جائیں تو ہمسائیگی رشتہ ہے میاں

ورنہ کیا فرق پڑے گھر کے ملا ہونے سے

مجھ سے پہلے تھے ابھی کتنے مناظر اوجھل

کتنے الفاظ تھے محروم صدا ہونے سے


عزم الحسنین عزمی

No comments:

Post a Comment