دستبردار نہیں ہوں میں رہا ہونے سے
قید گھٹتی نہیں زندان بڑا ہونے سے
اتنی مہلت نہ ملی خود کو سمیٹوں سارا
رہ گیا اس میں، میں عجلت میں جدا ہونے سے
ہیں بیک وقت کئی عشق سو معلوم نہیں
دل پریشاں ہے بھلا کس کے خفا ہونے سے
اتنا کافی ہے مِری رہ گئی ہے بات یہاں
سر تو جاتا ہے نا مٹی میں انا ہونے سے
دل بھی مل جائیں تو ہمسائیگی رشتہ ہے میاں
ورنہ کیا فرق پڑے گھر کے ملا ہونے سے
مجھ سے پہلے تھے ابھی کتنے مناظر اوجھل
کتنے الفاظ تھے محروم صدا ہونے سے
عزم الحسنین عزمی
No comments:
Post a Comment