صفحات

Tuesday, 2 November 2021

کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوں

 کہاں کوئی خزانہ چاہتا ہوں

ذرا سا مسکرانا چاہتا ہوں

مجھے موجیں اُچھالے جا رہی ہیں

میں کب سے ڈوب جانا چاہتا ہوں

جو پُرکھوں کا سنہرہ کل یہی ہے

تو واپس لوٹ جانا چاہتا ہوں

کوئی دل ہو کرائے کا مکاں ہے

میں اب ذاتی ٹھکانہ چاہتا ہوں

خدا میری انا محفوظ رکھے

میں دو روٹی کمانا چاہتا ہوں

جو تُو آئے بساطِ زندگی پر

تو خود کو ہار جانا چاہتا ہوں


ندیم فاضلی

No comments:

Post a Comment