سمندروں کے جو قصے مجھے سنا رہے ہو
مِرے جنوں کو نیا راستہ دکھا رہے ہو
جواب مانگا ہے تم سے بدلتے لہجے کا
یہ میرے شعر مجھے کس لیے سنا رہے ہو
میں بجھ گئی ہوں تو اس کا سبب بھی جانتے ہو
کہ سوگ بجھنے کا ایسے ہی بس منا رہے ہو
میں ان کے پاؤں میں سر رکھ کے اتنا کہتی رہی
تم آزما رہے ہو، یا مجھے گنوا رہے ہو
عقیدتوں کے سبھی زاویوں سے واقف ہو
یوں لگ رہا ہے کسی کے کبھی خدا رہے ہو
آسیہ شوکت آسی
No comments:
Post a Comment