صفحات

Wednesday, 24 November 2021

دل کے ماروں سے دل لگی چاہے

 دل کے ماروں سے دل لگی چاہے

موت قسطوں میں زندگی چاہے

میں تو چاہوں اسے قیامت تک

وہ ملاقات سرسری چاہے

شہر کا شہر میرے قدموں میں

دل مگر یار کی گلی چاہے

سب کی مرضی سے جی کے دیکھ لیا

اب وہی کر جو تیرا جی چاہے

میں سمندر کا کیا کروں فاروق

پیاس چڑھتی ہوئی ندی چاہے


فاروق رحمان

No comments:

Post a Comment