صفحات

Thursday, 4 November 2021

زیست کی صورت نکالی ہے ابھی

 زیست کی صورت نکالی ہے ابھی

میں نے توبہ توڑ ڈالی ہے ابھی

جوڑ کر ٹکڑے تیری تصویر کے

اک نئی صورت بنا لی ہے ابھی

جو بھی مجھ کو بھول کر شاداب ہیں

میں نے ان پر دھول ڈالی ہے ابھی

زندگی عیب تنافر ہے، مگر

ٹکڑے کر کر کے نبھا لی ہے ابھی

بن کے بیوی شيرنی ہو جائے گی

دیکھنے میں بھولی بھالی ہے ابھی


حنیف دانش

No comments:

Post a Comment