جسم کو جیسے خوں ضروری ہے
تیرا ہونا بھی یوں ضروری ہے
پوچھتے ہو وہ شخص مجھ کو اب
کہہ دیا نا! کہ ہوں ضروری ہے
اک محبت تو کرنا پڑتی ہے
زندگی میں سکوں ضروری ہے
سوچتا ہوں کبھی میں ایسے ہی
ویسے تو مجھ کو کیوں ضروری ہے
ہر کسی کے کہاں نصیبوں میں
عشق میں تو جنوں ضروری ہے
زندہ رہنے کو سانس کی جیسے
یہ سمجھ لو وہ یوں ضروری ہے
چہرے پڑھنا پُرانا قصہ ہے
اب تو سوزِ دروں ضروری ہے
بات آنکھوں سے کرنا پڑ جائے
تو نظر کا فسوں ضروری ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment