صفحات

Tuesday, 2 November 2021

جسم کو جیسے خوں ضروری ہے

 جسم کو جیسے خوں ضروری ہے

تیرا ہونا بھی یوں ضروری ہے

پوچھتے ہو وہ شخص مجھ کو اب

کہہ دیا نا! کہ ہوں ضروری ہے

اک محبت تو کرنا پڑتی ہے

زندگی میں سکوں ضروری ہے

سوچتا ہوں کبھی میں ایسے ہی

ویسے تو مجھ کو کیوں ضروری ہے

ہر کسی کے کہاں نصیبوں میں

عشق میں تو جنوں ضروری ہے

زندہ رہنے کو سانس کی جیسے

یہ سمجھ لو وہ یوں ضروری ہے

چہرے پڑھنا پُرانا قصہ ہے

اب تو سوزِ دروں ضروری ہے

بات آنکھوں سے کرنا پڑ جائے

تو نظر کا فسوں ضروری ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment