صفحات

Thursday, 2 December 2021

پھول کو باغباں ترستا ہے

 پھول کو باغباں ترستا ہے

حسن کو گلستاں ترستا ہے

ایسے ترسا ہوں زیست کو جیسے

بات کو بے زباں ترستا ہے

پانیوں میں ہے پھر بھی پانی کو

تشنہ لب یہ جہاں ترستا ہے

خوب ترسے ہے دھوپ چھاؤں کو

دھوپ کو سائباں ترستا ہے

اک گھڑی کامیاب ہونے کو

زیست کا امتحاں ترستا ہے

خود کو اول میں یا کہ آخر میں

دیکھنے درمیاں ترستا ہے

اِک ذرا یاد مہربانی کو

ان دنوں مہرباں ترستا ہے


اشتیاق احمد یاد

No comments:

Post a Comment