صفحات

Saturday, 25 December 2021

ہائے آیا نہیں اس در سے بلاوا میرا

 تغافل


ہائے آیا نہیں اس در سے بلاوا میرا

اب ہے اغیار کے ہاتھوں میں مداوا میرا

دست اغیار میں ہر جرم کماں ہو جائے

تیر دشنام مری سمت رواں ہو جائے

زخم ماتھے پہ لگے گر تو کوئی فکر نہیں

شکوۂ دوست کسی طور بیاں ہو جائے

مِرے شفاف لبادے پہ سیاہی مل دو

مجھے گمنامی کی دلدل سے بچا لو لوگو

میرے نہ ہونے کا احساس نہیں ہے اس کو

تم سرِ بزم مِرا نام اچھالو لوگو

ہائے آیا نہیں اس در سے بلاوا میرا

اب ہے اغیار کے ہاتھوں میں مداوا میرا


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment