صفحات

Saturday, 25 December 2021

حکم ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حکمِ ربی جب ہوا اس دم جہاں بنتا گیا

یہ زمیں بنتی گئی، اور آسماں بنتا گیا

آزمائش کے لیے فانی جہاں بنتا گیا

پُر لطف سا پُر کیف سا جیسے سماں بنتا گیا

جہل چھایا جب زمیں پر زندگی بے نور تھی

علم کا ہر راستہ تب بے نشا ں بنتا گیا

نور کو ڈھالا گیا انسان کے قالب میں جب

مصطفیٰؐ کے روپ میں اک ضوفشاں بنتا گیا

جس کے آگے دہر کی سب نکہتیں بھی ہیچ تھیں

پیشواﷺ آئے تو ایسا گلستاں بنتا گیا

بوبکرؓ، عثمانؓ و حیدرؓ اور عمرؓ جس دم ملے

کارِ دیں کے واسطے اک کارواں بنتا گیا

کل جہانوں کی زیارت بھی ملی محبوبؐ کو

واقعہ معراج اعزازی نشاں بنتا گیا

مجتبیٰؐ ہو، منتہیٰؐ ہو یا ہو پھر خیرالوریٰؐ

لفظ ہر اک شان میں رطب اللساں بنتا گیا


حیاء غزل

No comments:

Post a Comment