عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عشقِ سرکارﷺ کا ہی کافی ہے
دل میں یہ اک دیا ہی کافی ہے
اور دعاؤں کی ہم کو کیا حاجت
لب پہ صلِ علیٰ ہی کافی ہے
دونوں عالم کے بخشوانے کو
حق ہے بس مصطفیٰؐ ہی کافی ہے
کیوں نہ ذکرِ نبیﷺ کروں ہر دم
مجھ پہ ان کی عطا ہی کافی ہے
کیسے جاؤں میں جانبِ طیبہ
بہرِ عصیاں سیاہی کافی ہے
میرے امراض کو شفا خاطر
اس گلی کی ہوا کی کافی ہے
میں کہیں اور کیوں قمر جاؤں
وہ حبیبِ خدا ﷺ ہی کافی ہے
قمر آسی
No comments:
Post a Comment