صفحات

Friday, 24 December 2021

میں نے جینا سیکھ لیا

میں نے جینا سیکھ لیا


میں نے جینا سیکھ لیا، میں نے  جینا سیکھ لیا

اچھا کہو یا برا کہو، میں نے جینا سیکھ لیا

دنیا سے ہم ڈرتے تھے، چھپ چھپ آہیں بھرتے تھے

ہر اک کو پہچان لیا، کون ہے اپنا جان لیا

چوٹ جو دل پر کھائی ہے، دیتا درد دھائی ہے

اپنا جن کو کہتے تھے، ان کے دئیے غم سہتے تھے

ساتھ میرے جو آیا تھا، وہ میرا ہی سایہ تھا

آنکھوں سے جو نیند گئی، سپنوں کی مالا ٹوٹ گئی

اس دنیا کے میلے میں، کیسے جئیں اکیلے میں

پریت نے ہم کو یہی دیا، میں نے جینا سیکھ لیا

بیٹھ کے تیری راہوں میں، سجدے کیے نگاہوں میں

دور جو تجھ کو پاتے ہیں، غم سے دل بہلاتے ہیں

یادوں میں جب کھو جائیں، روتے روتے سو جائیں

درد محبت مار گیا، دل یہ بازی ہار گیا

تنہا تنہا رہتے ہیں، کچھ نہ کسی سے کہتے ہیں

تُو نے دل کو توڑ دیا، تنہا ہم چھوڑ دیا

زیب حیات کہانی ہے، سننی اور سنانی ہے

زخم کو سینا سیکھ لیا، میں نے جینا سیکھ لیا


عروج زیب

No comments:

Post a Comment