صفحات

Friday, 24 December 2021

اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سندر چہرے

 اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سندر چہرے

وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اکثر چہرے

دم بخود رہ گیا سفاک لٹیروں کا گروہ

گھر سے جب نکلے محافظ بھی چھپا کر چہرے

آج یادوں کے شفق رنگ دریچے مت کھول

ورنہ سونے نہیں دیں گے تجھے شب بھر چہرے

سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا سینے میں

جب کبھی اُبھرے ہیں یادوں کے اُفق پر چہرے

دل میں جب خواہشِ دیدار کے شعلے بھڑکے

کھا گیا وقت کا بے رحم سمندر چہرے

ہم نے بدلیں نہ کسی راہ پہ اپنی آنکھیں

گو وہ ملتے رہے ہر بار بدل کر چہرے

جانے کیا سوچ کے ہاتھ اس نے ستم سے کھینچا

خوں میں تر ہونے لگے جب تہِ خنجر چہرے

لوگ چپ چپ ہیں تو ہر گز انھیں بے حس نہ کہو

شدتِ غم سے بھی بن جاتے ہیں پتھر چہرے

اب بھی ماضی کو بھلانے میں ہوں مصروف جلال

اب بھی ہیں میرے تعاقب میں برابر چہرے


قاسم جلال

No comments:

Post a Comment